شبنمی رنگ میں اٹھتی ہے شرر ہوتی ہے
کتنی خود دار محبت کی نظر ہوتی ہے
اک ہوس کار کی کس رخ پہ نظر ہوتی ہے
آئینہ دیکھنے والے کو خبر ہوتی ہے
غم کے پردے میں ہے تکمیل خوشی کا ساماں
آہ کرتا ہوں تو ہوتی ہے محبت بدنام
ضبط کرتا ہوں تو ہر سانس شرر ہوتی ہے
اس کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے دل کی قیمت
جس کی ٹوٹے ہوئے شیشوں پر نظر ہوتی ہے
کھل گیا آپ کی دزدیدہ نگاہی کا بھرم
بے تعلق ہی محبت کی نظر ہوتی ہے
روشنی پر بھی اندھیرے کا گماں ہوتا ہے
جب شبستانِ غلامی میں سحر ہوتی ہے
زندگی اصل میں ہے سانس کا جادو اے دوست
شمع بجھتی ہے تو اے کیفؔ سحر ہوتی ہے
کیف عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment