Wednesday, 13 January 2016

شبنمی رنگ میں اٹھتی ہے شرر ہوتی ہے

شبنمی رنگ میں اٹھتی ہے شرر ہوتی ہے
کتنی خود دار محبت کی نظر ہوتی ہے
اک ہوس کار کی کس رخ پہ نظر ہوتی ہے
آئینہ دیکھنے والے کو خبر ہوتی ہے
غم کے پردے میں ہے تکمیل خوشی کا ساماں
شب کی آغوش میں تعمیر سحر ہوتی ہے
آہ کرتا ہوں تو ہوتی ہے محبت بدنام
ضبط کرتا ہوں تو ہر سانس شرر ہوتی ہے
اس کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے دل کی قیمت
جس کی ٹوٹے ہوئے شیشوں پر نظر ہوتی ہے
کھل گیا آپ کی دزدیدہ نگاہی کا بھرم
بے تعلق ہی محبت کی نظر ہوتی ہے
روشنی پر بھی اندھیرے کا گماں ہوتا ہے
جب شبستانِ غلامی میں سحر ہوتی ہے
زندگی اصل میں ہے سانس کا جادو اے دوست
شمع بجھتی ہے تو اے کیفؔ سحر ہوتی ہے

کیف عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment