روتے روتے جو سو گیا مجھ میں
ہو گیا کتنا بے صدا مجھ میں
میں سمندر سے پیاسا لوٹ آیا
جا گ اٹھی تھی میری انا مجھ میں
میری صورت پہ سب گئے، لیکن
ٹوٹ جانے کا ہے بہت امکاں
روز ہوتا ہے حادثہ مجھ میں
سارا جنگل مہک اٹھا جیسے
قرب کا پھول کھل گیا مجھ میں
کس کا لاشہ میں ڈھونڈئے پھرتا ہوں
کون اے کیفؔ مر گیا مجھ میں
کیف عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment