Wednesday, 13 January 2016

تباہی کا اپنی نشاں چھوڑ آئے

تباہی کا اپنی نشاں چھوڑ آئے
ورق در ورق داستاں چھوڑ آئے
ہر اک اجنبی سے پتا پوچھتے ہیں
تجھے زندگی! ہم کہاں چھوڑ آئے
وہی لوگ جینے کا فن جانتے ہیں
جو احساسِ سُود و زیاں چھوڑ آئے
نکل آئے تنہا تیری راہگزر پر
بھٹکنے کو ہم کارواں چھوڑ آئے

کیف عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment