بھر آئی آنکھ تو اکثر کسی کے نام کے ساتھ
مگر وہ اشک جو چھلکا کیے ہیں جام کے ساتھ
فروغِ جلوۂ ساقی ۔۔۔ فروغِ جام کے ساتھ
چراغ جلتے ہیں کس حسنِ اہتمام کے ساتھ
مہِ تمام کی باتیں ۔۔۔۔ مہِ تمام کے ساتھ
قفس میں رہ کے بھی اکثر بہار کا دامن
نظر سے چوم لیا ہم نے احترام کے ساتھ
چمن پہ سایۂ ابرِ بہار ۔۔۔ کیا کہیے
وہ زلف رخ پہ بکھرتی ہے التزام کے ساتھ
وفا تو دولتِ ناموسِ غم لٹا بیٹھی
ہوس کو ربط مبارک ہو ننگ و نام کے ساتھ
کوئی سمجھ نہ سکا رازِ دلبری تاباںؔ
یہ لطف خاص ہے اک شانِ انتقام کے ساتھ
غلام ربانی تاباں
No comments:
Post a Comment