Thursday, 14 January 2016

بھر آئی آنکھ تو اکثر کسی کے نام کے ساتھ

بھر آئی آنکھ تو اکثر کسی کے نام کے ساتھ
مگر وہ اشک جو چھلکا کیے ہیں جام کے ساتھ
فروغِ جلوۂ ساقی ۔۔۔ فروغِ جام کے ساتھ
چراغ جلتے ہیں کس حسنِ اہتمام کے ساتھ
مہِ تمام کی باتیں ۔۔۔۔ مہِ تمام کے ساتھ
وہ رات ہو گئی منسوب ان کے نام کے ساتھ
قفس میں رہ کے بھی اکثر بہار کا دامن
نظر سے چوم لیا ہم نے احترام کے ساتھ
چمن پہ سایۂ ابرِ بہار ۔۔۔ کیا کہیے
وہ زلف رخ پہ بکھرتی ہے التزام کے ساتھ
وفا تو دولتِ ناموسِ غم لٹا بیٹھی
ہوس کو ربط مبارک ہو ننگ و نام کے ساتھ
کوئی سمجھ نہ سکا رازِ دلبری تاباںؔ
یہ لطف خاص ہے اک شانِ انتقام کے ساتھ

غلام ربانی تاباں

No comments:

Post a Comment