Thursday, 14 January 2016

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں

کمالِ بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں
تِری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں
فروغِ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں
ہم اک چراغِ سرِ رہگزر سمجھتے ہیں
لبِ نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
ہم اہلِ شوق زبانِ نظر سمجھتے ہیں
جنابِ شیخ سمجھتے ہیں خوب رِندوں کو
جنابِ شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں
وہ خاک سمجھیں گے رازِ گل و سمن تاباںؔ
جو رنگ و بو کو فریبِ نظر سمجھتے ہیں

غلام ربانی تاباں

No comments:

Post a Comment