کمالِ بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں
تِری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں
فروغِ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں
ہم اک چراغِ سرِ رہگزر سمجھتے ہیں
لبِ نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
جنابِ شیخ سمجھتے ہیں خوب رِندوں کو
جنابِ شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں
وہ خاک سمجھیں گے رازِ گل و سمن تاباںؔ
جو رنگ و بو کو فریبِ نظر سمجھتے ہیں
غلام ربانی تاباں
No comments:
Post a Comment