Thursday, 19 August 2021

ادھر ہے آنکھ چوکھٹ پر ادھر ہیں کان آہٹ پر

 اِدھر ہے آنکھ چوکھٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر

لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

تِرے آنے سے پہلے ہی، تجھے پہچان لیتا ہے

مہکنے خود ہی لگتا ہے، مِرا دالان آہٹ پر

اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بھی خبر لے لے

جہاں وہ بھول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

بہت مانوس ہیں تم سے، مِرے گھر کی سبھی چیزیں

چہک اٹھتے ہیں پردے، کھڑکیاں، گلدان آہٹ پر

بڑی حسرت سے تکتے ہیں تمہاری راہ دن بهر یہ

لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پر

بنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکھوں میں

چمک اٹھتے ہیں پل بھر میں کئی ارمان آہٹ پر

ہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے

کوئی دیکھے کہ ملتا ہے انہیں کیا مان آہٹ پر

ٹھٹھرتا رات دن افضل میں سُونے گھر میں رہتا ہوں

بھڑک اٹھتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پر


افضل سراج

No comments:

Post a Comment