Monday, 16 August 2021

اس سے بڑھ کر کمال کیا ہوتا

 اس سے بڑھ کر کمال کیا ہوتا

آپ کرتے سوال، کیا ہوتا

وہ سمجھتے ہیں موت کے معنی

صاف کہتے وصال، کیا ہوتا

تیرے غم تک رسائی ہو جاتی

غم نہ ہوتا، مآل کیا ہوتا

قید ہے لمحہ لمحہ آنکھوں میں

کوئی دیکھے یہ جال کیا ہوتا

وقت اچھا بُرا نہیں ہوتا

ہم سے ہی فیصلہ نہیں ہوتا

ہر کوئی ہو خلوص کے قابل

ہر کوئی آپ سا نہیں ہوتا


افضل سراج

No comments:

Post a Comment