یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے
یہ راز کھلا آج کہ جذبات میں کیا ہے
اک تجھ سے ہی امید لگا رکھی ہے ورنہ
یہ مجھ کو خبر ہے کہ مِری ذات میں کیا ہے
یہ کہہ کے پرندوں نے بھری آج اڑانیں
شہروں کی طرف چلتے ہیں دیہات میں کیا ہے
یوں غور سے ہاتھوں کی لکیریں نہ پڑھا کر
بگڑیں گے سنور جائیں گے حالات میں کیا ہے
کھنچتے ہی چلے آتے ہیں دل شہرِ ہوس میں
جادو تِری آنکھوں میں تِری بات میں کیا ہے
پہلے تو درختوں سے نکلتی تھیں کراہیں
اس بار ذرا دیکھیے برسات میں کیا ہے
وفا نقوی
No comments:
Post a Comment