Monday, 16 August 2021

یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے

 یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے

یہ راز کھلا آج کہ جذبات میں کیا ہے

اک تجھ سے ہی امید لگا رکھی ہے ورنہ

یہ مجھ کو خبر ہے کہ مِری ذات میں کیا ہے

یہ کہہ کے پرندوں نے بھری آج اڑانیں

شہروں کی طرف چلتے ہیں دیہات میں کیا ہے

یوں غور سے ہاتھوں کی لکیریں نہ پڑھا کر

بگڑیں گے سنور جائیں گے حالات میں کیا ہے

کھنچتے ہی چلے آتے ہیں دل شہرِ ہوس میں

جادو تِری آنکھوں میں تِری بات میں کیا ہے

پہلے تو درختوں سے نکلتی تھیں کراہیں

اس بار ذرا دیکھیے برسات میں کیا ہے


وفا نقوی

No comments:

Post a Comment