Monday, 16 August 2021

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے

 دُکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے

ہرا بھرا مِرے سینے میں کوئی باغ تو ہے

نہیں ہے وصل مگر خواب وصل بھی ہے بہت

ذرا سی دیر غمِ ہجر سے فراغ تو ہے

بہت اجاڑے سہی عمر کی سرائے مگر

شکستہ طاق میں اک یاد کا چراغ تو ہے

میں تشنگی کا گلا کیا کروں کہ صورت دل

لہو کی مے سے چھلکتا ہوا ایاغ تو ہے

تو کھو گیا ہے مِرے شہر رفتگاں لیکن

یہ ایک درد کی خوشبو ترا سراغ تو ہے


 فراست رضوی

No comments:

Post a Comment