اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا
غم کی شوخی کا تقاضہ تھا کہ سادہ رونا
سب یہ کہتے ہیں کہ بے وقت میں رو پڑتا ہوں
یار ممکن بھی نہیں کر کے ارادہ رونا
تنگ دل شخص کا یہ مشورہ معقول لگا
دامنِ دل کو سدا کر کے کشادہ رونا
جانے والے نے کہا بھول نہ جانا مجھ کو
بس مذاقاً تو کبھی توڑ کے وعدہ رونا
وہ مِرا نام تو لیتا ہے، مگر نفرت سے
آدھا ہنسنا ہے مقدر میں تو آدھا رونا
کاظم حسین کاظم
No comments:
Post a Comment