Monday, 19 July 2021

اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا

 اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا

غم کی شوخی کا تقاضہ تھا کہ سادہ رونا

سب یہ کہتے ہیں کہ بے وقت میں رو پڑتا ہوں

یار ممکن بھی نہیں کر کے ارادہ رونا

تنگ دل شخص کا یہ مشورہ معقول لگا

دامنِ دل کو سدا کر کے کشادہ رونا

جانے والے نے کہا بھول نہ جانا مجھ کو

بس مذاقاً تو کبھی توڑ کے وعدہ رونا

وہ مِرا نام تو لیتا ہے، مگر نفرت سے

آدھا ہنسنا ہے مقدر میں تو آدھا رونا


کاظم حسین کاظم

No comments:

Post a Comment