Tuesday, 20 July 2021

دل کے نگر سے خوف کا جالا نہیں گیا

 دل کے نگر سے خوف کا جالا نہیں گیا

یوں ڈور الجھی خود کو سنبھالا نہیں گیا

گھبرائی آپ، تجھ کو مگر سونپا جو گھڑا

دریا گھڑا یہ تجھ سے سنبھالا نہیں گیا

دل ٹوٹا ایسے کرچیاں ہاتھوں میں رہ گئیں

گھر اس کے بعد مجھ سے سنبھالا نہیں گیا

آنسو نہ تھی میں آنکھ کا، پھر آؤں لوٹ کر

گھر سے یہ غیر مجھ سے نکالا نہیں گیا

تھی بخت میرا آبلہ پائی حیات کی

بھر کر بھی زخم، پاؤں کا چھالا نہیں گیا

ہم عمر بھر اندھیروں میں بھٹکے لیے چراغ

دو گز بھی جس کا ساتھ اُجالا نہیں گیا

مت پوچھ ہم نے ہجر کو کاٹا ہے کس طرح

یونہی تمہارے غم کو تو پالا نہیں گیا

تہمینہ سنگ آئے جو الزام کے ادھر

واپس کوئی بھی سنگ اُچھالا نہیں گیا


تہمینہ راؤ

No comments:

Post a Comment