دل کے نگر سے خوف کا جالا نہیں گیا
یوں ڈور الجھی خود کو سنبھالا نہیں گیا
گھبرائی آپ، تجھ کو مگر سونپا جو گھڑا
دریا گھڑا یہ تجھ سے سنبھالا نہیں گیا
دل ٹوٹا ایسے کرچیاں ہاتھوں میں رہ گئیں
گھر اس کے بعد مجھ سے سنبھالا نہیں گیا
آنسو نہ تھی میں آنکھ کا، پھر آؤں لوٹ کر
گھر سے یہ غیر مجھ سے نکالا نہیں گیا
تھی بخت میرا آبلہ پائی حیات کی
بھر کر بھی زخم، پاؤں کا چھالا نہیں گیا
ہم عمر بھر اندھیروں میں بھٹکے لیے چراغ
دو گز بھی جس کا ساتھ اُجالا نہیں گیا
مت پوچھ ہم نے ہجر کو کاٹا ہے کس طرح
یونہی تمہارے غم کو تو پالا نہیں گیا
تہمینہ سنگ آئے جو الزام کے ادھر
واپس کوئی بھی سنگ اُچھالا نہیں گیا
تہمینہ راؤ
No comments:
Post a Comment