Sunday, 16 January 2022

خواب ٹوٹے تو مری پلکوں پہ آئے سائے

 خواب ٹوٹے تو مِری پلکوں پہ آئے سائے

کس طرح آج مری آنکھوں میں چھائے سائے

اس نے جو بات کہی میری تھی یا میری نہیں

اس کی آنکھوں میں مرے تھے نہ پرائے سائے

مجھ کو تنہائی کی آغوش میں ڈر لگتا ہے

جیسے بیٹھے ہوں میرے پاس میں سائے سائے

شام ڈھلتے ہی جلے آنکھ میں جگنو آنسو

اور زلفوں میں کہیں میں نے چھپائے سائے

جھیل کے پانی سے ہاتھوں میں اٹھایا تھا کنول

اس میں اک عکس بنا عکس میں پائے سائے

اس کے ہاتھوں میں دھنک رنگ تھے ظاہر ایسے

جس نے آکاش کے پردے میں بنائے سائے

میں بھی اک روز بدل جاؤں گی تمثیل

مگر میری قسمت میں اگر کوئی نہ لائے سائے


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment