Tuesday, 13 July 2021

بدن کے مقبرے میں ہم اسے دفنا کے بیٹھے ہیں

 اسے دفنا کے بیٹھے ہیں


اسے اب بھول ہی جائیں

جسے ہم چھوڑ کر پیچھے

بہت آگے نکل آئے

بہت آگے نکل آئے

کہ ہم کو دور جانا تھا

کہ وہ اک ناتواں لڑکی

وہ بھائی، باپ کی غیرت

وہ دل ہاری ہوئی لڑکی

بہت فرسودہ رسموں کی

وہ اک ماری ہوئی لڑکی

جسے ہم چھوڑ کر پیچھے

بہت آگے نکل آئے

سنا ہے خون روتی ہے

ابھی تک یاد کرتی ہے

ہماری یاد میں اب تک

بہت فریاد کرتی ہے

مگر اب کیا کرے کوئی

کہ دل کو کر چکے پتھر

بہت آسودہ رہتے ہیں

ہم اس کے پیار کی باتیں

نہ سنتے ہیں نہ کہتے ہیں

کہ ان باتوں سے کیا حاصل

بدن کے مقبرے میں ہم

اسے دفنا کے بیٹھے ہیں

جسے تم روح کہتے ہو


شعیب صدیقی

No comments:

Post a Comment