میں نے جسے بھی دل میں اُتارا، اُجڑ گیا
خود کو ہی دیکھ، تُو بھی تو یارا اجڑ گیا
اجڑا ہوا تھا تھوڑا بہت تجھ سے پہلے، پر
تُو آیا، آ کے بچھڑا، میں سارا اجڑ گیا
جس نے بھی مجھ کو چاہا وہ برباد ہے ہوا
ہنس کر ملا جو مجھ سے، وہ پیارا اجڑ گیا
بس آنکھ بھر کے دیکھنے کی دیر تھی، مِرے
اچھے سے اچھا پھر تو نظارا اجڑ گیا
کیا میری زندگی ہے کسی ماں کی بددعا
میں نے اسے ذرا سا گزارا، اجڑ گیا
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment