Sunday, 23 May 2021

اندھی ہوا کی زد پہ ٹھہرتے تھے کب چراغ

 اندھی ہوا کی زد پہ ٹھہرتے تھے کب چراغ

اپنے لہو سے میں نے جلائے ہیں سب چراغ

مجھ کو ملی ہے شب سے وراثت میں دشمنی

میں تو ہوں روشنی مِرا نام و نسب چراغ

تیرے خطوط کھول کے بیٹھا ہوں آج پھر

پلکوں پہ جگمگانے لگے ہیں عجب چراغ

کرتا ہے گفتگو تو بکھرتی ہے روشنی

انکھیں ہیں اس کی شمع تو ہیں اس کے لب چراغ

عرفان عمر بھر کا اثاثہ یہی تو ہے

کاغذ، قلم، کتاب، خیالات، شب، چراغ


عرفان صادق

No comments:

Post a Comment