Thursday, 3 November 2022

دل کے کاغذ پر لکھا ہے تیرا نام

 دل کے کاغذ پر لکھا ہے تیرا نام

چین ملتا ہے پڑھوں جب صبح و شام

کیا خبر تھی عشق بھی اک روگ ہے

ورنہ کافر دل کو دے دیتی لگام

زندگی بھر زندگی کب کر سکی

زندگی میرے لیے تھی جیسے لام

سر پہ سودائے جنوں جب ہو سوار

سوجھتا ایسے میں پھر کیا کوئی کام

ہونی انہونی نہیں ہوتی کبھی

ہونی ہوتی ہے بہت ہی بے لگام

برکتیں حرکت میں مضمر ہیں بہت

کرتے رہنا چاہیے انساں کو کام

اے منور دل کو قابو میں رکھو

رہ نہ پاؤ گی وگرنہ نیک نام


منور جہاں 

No comments:

Post a Comment