Tuesday, 8 February 2022

منافقت کا میں خنجر تلاش کرتی ہوں

 منافقت کا میں خنجر تلاش کرتی ہوں

میں اپنی پشت میں نشتر تلاش کرتی ہوں

بہ قدرِ ظرف ہی ملتا ہے جام تشنہ کو

مجھے ہے پیاس، سمندر تلاش کرتی ہوں

بدن پہ آج کی خاتون کے میں حیرت سے

حجاب و شرم کا زیور تلاش کرتی ہوں

ملن کے بند کیے جس نے سارے دروازے

اُسی کو جا کے میں در در تلاش کرتی ہوں

جو لے کے آئے ہیں احباب آستینوں میں

عداوتوں کے وہ خنجر تلاش کرتی ہوں

غزل کو اپنی قلم بند کر کے کاغذ پر

شعورِ شعر کا جوہر تلاش کرتی ہوں

مِرے سفر میں بڑے پیچ و خم ہیں پوشیدہ

میں شب میں شمعِ منور تلاش کرتی ہوں


منور جہاں 

No comments:

Post a Comment