Tuesday, 8 February 2022

کسی کے گھر کے آنگن میں شجر مشکل سے ملتا ہے

 کسی کے گھر کے آنگن میں شجر مPشکل سے ملتا ہے

یہاں اونچی عمارت ہے کہ گھر مشکل سے ملتا ہے

مجھے وہ گاؤں کے پنگھٹ شہر میں یاد آئے ہیں

کسی نے جب کہا؛ پانی ادھر مشکل سے ملتا ہے

تِرے آنسو تو موتی ہیں، تِرا ہے چاند سا چہرہ

زمیں پہ دیکھیۓ یارو! قمر مشکل سے ملتا ہے

مجھے پردے کہ پیچھے سے مدھر آواز یہ آئی

یہاں ملتا تو ہے سب کچھ مگر مشکل سے ملتا ہے

بزرگوں کی عنایت ہے دیا طرزِ سخن مجھ کو

وگرنہ اس زمانے میں ہُنر مشکل سے ملتا ہے

جہاں خدمت بزرگوں کی کریں دل سے سبھی عابد

سلیقہ جن گھروں میں ہو وہ گھر مشکل سے ملتا ہے


عابد نواب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment