کسی کے گھر کے آنگن میں شجر مPشکل سے ملتا ہے
یہاں اونچی عمارت ہے کہ گھر مشکل سے ملتا ہے
مجھے وہ گاؤں کے پنگھٹ شہر میں یاد آئے ہیں
کسی نے جب کہا؛ پانی ادھر مشکل سے ملتا ہے
تِرے آنسو تو موتی ہیں، تِرا ہے چاند سا چہرہ
زمیں پہ دیکھیۓ یارو! قمر مشکل سے ملتا ہے
مجھے پردے کہ پیچھے سے مدھر آواز یہ آئی
یہاں ملتا تو ہے سب کچھ مگر مشکل سے ملتا ہے
بزرگوں کی عنایت ہے دیا طرزِ سخن مجھ کو
وگرنہ اس زمانے میں ہُنر مشکل سے ملتا ہے
جہاں خدمت بزرگوں کی کریں دل سے سبھی عابد
سلیقہ جن گھروں میں ہو وہ گھر مشکل سے ملتا ہے
عابد نواب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment