Thursday, 22 April 2021

یادوں کو اماں ملے نہ یارب

 یادوں کو اماں ملے نہ یا رب

شعلوں کا عذاب ان پہ اترے

جو ان کو جلا کے راکھ کر دے

یا اپنی تپش سے خاک کر دے

بن جائیں یہ خواب اذیتوں کے

وہ خواب کہ جن کو ابتلا کے

کچھ عینی گواہ دیکھتے ہوں

دیکھیں وہ سماں کہ گُنگ ہو جائیں

تا حشر کسی کو کچھ نہ بتلائیں


جمشید مسرور

No comments:

Post a Comment