یادوں کو اماں ملے نہ یا رب
شعلوں کا عذاب ان پہ اترے
جو ان کو جلا کے راکھ کر دے
یا اپنی تپش سے خاک کر دے
بن جائیں یہ خواب اذیتوں کے
وہ خواب کہ جن کو ابتلا کے
کچھ عینی گواہ دیکھتے ہوں
دیکھیں وہ سماں کہ گُنگ ہو جائیں
تا حشر کسی کو کچھ نہ بتلائیں
جمشید مسرور
No comments:
Post a Comment