سازش کس نے گھڑی
بم کس نے پھوڑا
میں نہیں جانتا
میں صرف اتنا جانتا ہوں
اس رات حکمران
سیاستدانوں سے ہمبستر تھے
اور دانشور
الفاظ کی آبروریزی کر رہے تھے
اس رات مستونگ کے میدان پر
ایک کٹے ہوئے ہاتھ کی انگلی میں
ایک محبت میں پہنائی گئی انگوٹھی
صبح تک روتی رہی
اس انگوٹھی کی کہانی سنو
سوال مت پوچھو
شہداء کی نیند میں
خلل مت ڈالو
انہیں سونے دو
اور ان کی محبتوں کو رونے دو
اعجاز منگی
No comments:
Post a Comment