Friday, 26 March 2021

شورش دل یہیں پہلو میں دبایا میں نے

 شورشِ دل یہیں پہلو میں دبایا میں نے

دل کے ہر لخت کو ہر رات جلایا میں نے

آج ہر زخمِ تمنا ہوا تازہ پھر سے

ہجر کی تیرگی کو آپ منایا میں نے

جس کے دَم سے مِرے ہونٹوں پہ تبسم بکھرا

پَل وہ بیتے ہوئے ماضی کا چُرایا میں نے

اس نئے دور میں ہے روح پرانی میری

سو لگا دل نہ یہاں، لاکھ لگایا میں نے

سانس لینے کیلئے خوابوں کو گِروی رکھا

اور گِن گِن کے یہی قرض چُکایا میں نے

گردشِ دہر کی درپیش مسافت کاٹی

یوں مَہ و مہر کا بھی بوجھ اٹھایا میں نے

میرے پلّو کی گِرہ میں ہے محبت بندھی

اب تلک اک یہی سرمایہ کمایا میں نے

یوں مسیحائی سے یہ زندگی کاٹی اپنی

درد بڑھتے ہی گلے خود کو لگایا میں نے

آرزو شاخوں نے بھی روک لیں سانسیں اپنی

دُکھ ابھی پہلا خزاؤں کا سنایا میں نے


اسماء آرزو

No comments:

Post a Comment