تِرا خیال کبھی چُھو کے جب گزرتا ہے
بدن کے رنگ سے آنچل مِرا مہکتا ہے
نئے زمانے نئے موسموں سے گونجتے ہیں
کوئی پرندہ مِری چھت پہ بھی چہکتا ہے
وہ غفلتوں کا پرستار ہو گیا ہے اگر
دعا کروں گی مِرا دُکھ خدا تو سنتا ہے
تمہارے ہجر میں کرتا ہے کون دلجوئی
وہ کون ہے جو غموں کی رتیں بدلتا ہے
حسین ہو تو ادائیں بھی تم سے پھوٹیں گی
بڑے غرور میں ہو پر تمہارا بنتا ہے
تمہارے نین طلسمات سے بھرے ہوئے ہیں
انہی کی دید سے ہر غم ہمارا ٹلتا ہے
ہم ایسے لوگ نہیں ہر کسی پہ مر جائیں
ذرا بتا نا؟ ہمیں کیا کوئی سمجھتا ہے
یہ تیرا غم ہے اسے خود سنبھال لے آ کر
بھٹکنے والا نہیں ہے، مگر بھٹکتا ہے
رباب! کافی نہیں کیا مِری خوشی کے لیے
میں سوچتی ہوں وہ مجھ کو دکھائی دیتا ہے
فوزیہ رباب
No comments:
Post a Comment