دیکھا اسے دمِ سحر، نیند نہ آئی رات بھر
ہم نے خطوط و خال کی بزم سجائی رات بھر
شب کے سفیر کے لیے، ماہِ منیر کے لیے
تختِ فلک پہ مسندِ نجم بچھائی رات بھر
چار طرف اُمنڈ پڑِیں، ہجر بھری سیاہیاں
یاد کی ایک شمع سی دل میں جلائی رات بھر
چِھڑتے ہی داستانِ دل دونوں کی نیند اڑ گئی
تم نے سنی نہ صبح تک، ہم نے سنائی رات بھر
صیدِ انا کی سوچ تھی، بات نہ تھی قرار کی
ہم نے اگر فرار کی راہ نہ پائی رات بھر
ڈھلتے ہی دن اُتر گئے قُلزمِ خواب میں نجیب
صورتِ خواب تک مگر ہاتھ نہ آئی رات بھر
نجیب احمد
No comments:
Post a Comment