جینے کے طلبگار کو مرنے نہیں دیتا
آئینہ اگر ان کو سنورنے نہیں دیتا
کیا دبدبۂ حسن ہے، کیا رعبِ جوانی
چہرے پہ نگاہوں کو ٹھہرنے نہیں دیتا
یہ خوف کہ دنیا تجھے بدنام نہ کر دے
مجھ کو تِری بستی سے گزرنے نہیں دیتا
کیا جانے کسے اپنا بنانے کا ارادہ
پل بھر تِری زلفوں کو بکھرنے نہیں دیتا
کابل بھی گیا ہاتھ سے بغداد بھی، لیکن
یہ وقت ہمیں آہ بھی بھرنے نہیں دیتا
گھر بیٹھے رضا خواب کسی تاج محل کا
انسان کو پستی سے ابھرنے نہیں دیتا
رضا جونپوری
No comments:
Post a Comment