Saturday, 12 December 2020

لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

 لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل

اس نے اک بار کہا کوئی نہیں تم جیسا

تب سے میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل

وہ بھی ہنس ہنس کے کیا کرتا تھا باتیں اور میں

اس کی باتوں میں چلی آئی بےچاری پاگل

ایک مدت سے تری راہ میں آ بیٹھی ہے

عشق میں تیرے ہوئی راجکماری پاگل

میں نے پوچھا کہ کوئی مجھ سے زیادہ ہے حسیں

آئینہ ہنس کے یہ بولا اری جا ری پاگل

یوں نہیں ہے کہ فقط نین ہوئے ہیں میرے

دیکھ کر تجھ کو ہوئی ساری کی ساری پاگل

اس نے پوچھا کہ مری ہو ناں تو پھر میں نے کہا

ہاں تمہاری میں تمہاری میں تمہاری پاگل

میں رباب اس سے زیادہ تجھے اب کیا دیتی

زندگی میں نے ترے نام پہ واری پاگل


فوزیہ رباب

No comments:

Post a Comment