Saturday, 12 December 2020

سوال کو طرزِ منفرد سے اٹھا رہا ہوں

سوال کو طرزِ منفرد سے اٹھا رہا ہوں

اگر میں سب سے جدا رہا ہوں تو کیا رہا ہوں

عجیب حرکت ہے زندگی کے جمود میں بھی

پڑا ہوں بستر پہ، اور لگتا ہے جا رہا ہوں

کسی نے دیکھا نہیں ہے جس کو وہ خواب دیکھا

جسے سنایا نہیں گیا ہے، سنا رہا ہوں

یہ زندگی ہے اگر اُدھر بھی جو ہے اِدھر بھی

ہو علم کیسے میں جا رہا ہوں، کہ آ رہا ہوں

کسی نے چلنے کا کہہ دیا تو نہیں رکا میں

اگر کسی نے کہا کہ رک جا، کھڑا رہا ہوں میں

چبائے جاتے ہیں ایک دوجے کو درد، اور میں

یہ مجھ کو اندر میں اس کو باہر سے کھا رہا ہوں


علی شیران

No comments:

Post a Comment