نئے راستے کی سڑک
مجھے ہر روز نئے راستے کی سڑک
بلاتی ہے
پیدل چلتے ہوئے نہ جانے کتنے چہرے
مجھے شاہراہوں پر بکھرے
گرے پڑے ملتے ہیں
میں جو منزل سے بے نیازی
کے زعم میں اکیلا
صدیوں سے بھرے سفر کے تسخیر شدہ اوراق
الٹتا ہوا تاریخ کے ملفوف گوشوں پر
ہنستا ہوں اور اپنی کمزور ناتواں آواز
کی بے بسی پر
آنسو بہاتا ہوں
اگر کہیں میں رکتا ہوں
تو وہ تمہارے دلکش خواب
کی قاشوں کا نگر ہے
نارسائی کی بے لگام سی مسافتوں کا
مجمع ہے جسے میری ذات کی سنگ زنی
پہ مامور کر دیا گیا ہے
میں روزانہ ایک نئی سڑک پر
یادوں کے شگاف بھرنے کے لیے
خود فراموشی کے تعاقب میں
چپ چاپ نکلتا ہوں
اور خالی ہاتھوں کے مشکیزوں میں
تمہاری خوشبو کو بھر لاتا ہوں
امجد بابر
No comments:
Post a Comment