Saturday, 12 December 2020

مجھے ہر روز نئے راستے کی سڑک بلاتی ہے

 نئے راستے کی سڑک

مجھے ہر روز نئے راستے کی سڑک

بلاتی ہے

پیدل چلتے ہوئے نہ جانے کتنے چہرے

مجھے شاہراہوں پر بکھرے

گرے پڑے ملتے ہیں

میں جو منزل سے بے نیازی

کے زعم میں اکیلا

صدیوں سے بھرے سفر کے تسخیر شدہ اوراق

الٹتا ہوا تاریخ کے ملفوف گوشوں پر

ہنستا ہوں اور اپنی کمزور ناتواں آواز

کی بے بسی پر

آنسو بہاتا ہوں

اگر کہیں میں رکتا ہوں

تو وہ تمہارے دلکش خواب

کی قاشوں کا نگر ہے

نارسائی کی بے لگام سی مسافتوں کا

مجمع ہے جسے میری ذات کی سنگ زنی

پہ مامور کر دیا گیا ہے

میں روزانہ ایک نئی سڑک پر

یادوں کے شگاف بھرنے کے لیے

خود فراموشی کے تعاقب میں

چپ چاپ نکلتا ہوں

اور خالی ہاتھوں کے مشکیزوں میں

تمہاری خوشبو کو بھر لاتا ہوں


امجد بابر​

No comments:

Post a Comment