Saturday, 12 December 2020

کچھ ایسے مجھے سایہ دیوار پکارے

 کچھ ایسے مجھے سایۂ دیوار پکارے

جیسے کسی بیمار کو بیمار پکارے

میں دیکھتا رہتا ہوں ترے ہونٹ کی جانب

میں سوچتا رہتا ہوں تُو اک بار پکارے

وہ ایسے پکارے کہ سمٹ جائے ہر اک شے

وہ ایسے پکارے کہ فسوں کار پکارے

سب ہنستے ہوئے لوگوں کے منہ پر ہو طمانچہ

وہ شخص مجھے ایسے لگاتار پکارے

ہر شخص مجھے تیرے عزاداروں میں دیکھے

ہر شخص مجھے تیرا طرفدار پکارے

آئینہ مجھے دیکھ کے ہنس دے مرے اوپر

دروازہ مجھے دیکھ کے دیوار پکارے

اس پر تری وحشت کا اثر ہے سو یہ دانش

دیوانہ ترے دشت کو گلزار پکارے


دانش حیات

No comments:

Post a Comment