Saturday, 24 April 2021

ایک تصویر جلانی ہے ابھی

 ایک تصویر جلانی ہے ابھی

ہاں مگر آنکھ میں پانی ہے ابھی

اس نے جب ہاتھ ملایا تو لگا

دل میں اک پھانس پرانی ہے ابھی

ابھی باقی ہے بچھڑنا اس سے

نا مکمل یہ کہانی ہے ابھی

اے ہوا ایسی بھی عجلت کیا ہے

کیا کہیں آگ لگانی ہے ابھی

راستہ روک رہی ہے اک یاد

یہ بھی دیوار گرانی ہے ابھی

یہ جو پتھر ہیں انہیں ٹوٹنا ہے

میرے اشکوں میں روانی ہے ابھی

وقت یہ پوچھ رہا ہے طارق

گرد کچھ اور اڑانی ہے ابھی


طارق قمر

No comments:

Post a Comment