Saturday, 24 April 2021

دزدیدہ نگاہوں کا اثر دیکھ لیا ہے

دزدیدہ نگاہوں کا اثر دیکھ لیا ہے

بڑھتا ہوا کچھ درد جگر دیکھ لیا ہے

اک آگ سی ہر وقت لگی رہتی ہے دل میں

میں نے یہ محبت کا اثر دیکھ لیا ہے

اب مہرباں کوئی نہ رہا میرا جہاں میں

کل یار کو اغیار کے گھر دیکھ لیا ہے

کیوں سہما ہوا ہے تو بتا اے دل ناداں

کیا چلتا ہوا تیر نظر دیکھ لیا ہے

دل میرا نہیں لگتا کسی اور جہاں میں

جس روز سے آ کر تِرا در دیکھ لیا ہے

آنکھوں سے تو میں ان کو نہیں دیکھ سکا ہوں

اک روز تصور میں مگر دیکھ لیا ہے

دیکھوں گا سمیع کیا وہ کسی اور جہاں میں

میں نے جو یہاں شام و سحر دیکھ لیا ہے


سمیع سلطانپوری

سمیع اللہ

No comments:

Post a Comment