دزدیدہ نگاہوں کا اثر دیکھ لیا ہے
بڑھتا ہوا کچھ درد جگر دیکھ لیا ہے
اک آگ سی ہر وقت لگی رہتی ہے دل میں
میں نے یہ محبت کا اثر دیکھ لیا ہے
اب مہرباں کوئی نہ رہا میرا جہاں میں
کل یار کو اغیار کے گھر دیکھ لیا ہے
کیوں سہما ہوا ہے تو بتا اے دل ناداں
کیا چلتا ہوا تیر نظر دیکھ لیا ہے
دل میرا نہیں لگتا کسی اور جہاں میں
جس روز سے آ کر تِرا در دیکھ لیا ہے
آنکھوں سے تو میں ان کو نہیں دیکھ سکا ہوں
اک روز تصور میں مگر دیکھ لیا ہے
دیکھوں گا سمیع کیا وہ کسی اور جہاں میں
میں نے جو یہاں شام و سحر دیکھ لیا ہے
سمیع سلطانپوری
سمیع اللہ
No comments:
Post a Comment