Saturday, 24 April 2021

غموں میں ڈوبی ہوئی ہے ہر اک خوشی میری

 غموں میں ڈوبی ہوئی ہے ہر اک خوشی میری

عجیب طور سے گزری ہے زندگی میری

ہر ایک لمحہ گزرتا ہے حادثے کی طرح

بس ایک دردِ مسلسل ہے زندگی میری

خیال و فکر نے کیا کیا صنم تراشے تھے

تمام عمر پرستش میں کٹ گئی میری

مِرا سفینۂ ہستی ہے اور موجِ بلا

تماشا دیکھتی رہتی ہے بے بسی میری

ہجومِ درد میں گم ہو گئی مِری آواز

زمانے والوں نے روداد کب سنی میری

مِری حیات ادھوری رہی تمہارے بغیر

بتاؤ تم نے بھی محسوس کی کمی میری

غمِ حیات کی روداد تھی مگر ممتاز

سمجھ لیا اسے لوگوں نے شاعری میری


ممتاز میرزا

No comments:

Post a Comment