Saturday, 24 April 2021

جو کر رہے ہیں سبھی لوگ کر کے دیکھتے ہیں

 جو کر رہے ہیں سبھی لوگ کر کے دیکھتے ہیں

تِری گلی سے بھی اک دن گزر کے دیکھتے ہیں

زمین کیا ہے؟ یہاں رونمائی کس کی ہے

سحابِ صبحِ ازل پر اُتر کے دیکھتے ہیں

خبر نہیں گو ابھی تک وہاں پہ کیا ہو گا

مگر قیام کہیں اور کر کے دیکھتے ہیں

کبھی تو اپنا کیا سامنے بھی آتا ہے

کبھی تو اپنے کیے سے بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سکون بھی یہیں ملتا ہے اپنی نیکی پر

فساد بھی یہیں ہم لوگ شر کے دیکھتے ہیں

یہیں سفر ہے یہیں منزلیں یہیں رستے

نشانِ پا بھی یہیں راہبر کے دیکھتے ہیں

ہمائے شوق مسلسل اڑان جاری رکھ

کہ ہم کمال تِرے بال و پر کے دیکھتے ہیں

سبھی کہاں ہے جو ڈھلتا ہے اپنے منظر میں

سبھی کہاں مِرے اوسان سر کے دیکھتے ہیں

ابھی کیا نہیں ناصر علی جو دل میں ہے

ابھی اثر کسی حسنِ نظر کے دیکھتے ہیں


ناصر علی

No comments:

Post a Comment