Sunday, 25 April 2021

نظر نظر سے ملا کر کلام کر آیا

 نظر نظر سے ملا کر کلام کر آیا

غلام شاہ کی نیندیں حرام کر آیا

کئی چراغ ہوا کے اثر میں آئے تھے

میں ایک جگنو کو ان کا امام کر آیا

یہ کس کی پیاس کے چھینٹے پڑے ہیں پانی پر

یہ کون جبر کا قصہ تمام کر آیا

اترتی شام کے سائے بہت ملول سے تھے

سو ایک شب میں وہاں بھی قیام کر آیا

یہ اور بات مِرے پاؤں کٹ گئے لیکن

میں شاہراہ کو اک راہِ عام کر آیا

کروں کلام کسی اور سے میں کیا طارق

کہ اپنے لفظ تو سب اس کے نام کر آیا


طارق قمر

No comments:

Post a Comment