مِری آنکھوں میں ہر دن وہ نئے سپنے سجاتا ہے
نئی راہوں پہ چلنے کا ہنر مجھ کو سکھاتا ہے
عجب یہ حوصلہ اس کا کہ میں بیزار ہوں اور وہ
نیا اک دِیب چاہت کا مِرے دل میں جلاتا ہے
عنایت ہے خدا کی اور عجب اس کی محبت ہے
کہ وہ میرے گناہوں کو زمانے سے چھپاتا ہے
قیامت ڈھا گیا مجھ پر عجب انداز سے بسمل
غمِ ہجراں میں تڑپا کر مجھے ہر پل رلاتا ہے
مٹائے جو نہیں مٹتا گماں ایسا حسیں ہے وہ
اُسے جتنا بھُلاتا ہوں،۔ وہ اُتنا یاد آتا ہے
نہیں مٹتے ہیں داغِ دل بہا کر اشک بھی محسن
مِرا ماضی مجھےاپنی طرف پھر کھینچ لاتا ہے
محسن کشمیری
No comments:
Post a Comment