Wednesday, 24 March 2021

ہوئی ان سے جو اپنی آشنائی

 ہوئی ان سے جو اپنی آشنائی

مِٹی خوئے خودی اور خود نمائی

بھٹکتا پھرتا گہری ظلمتوں میں

اگر ملتی نہ تیری روشنائی

تمہارا ہجر وہ بھی عمر بھر کا

سہی جاتی نہیں اک پل جدائی

محبت گر ہرس کا نام بھی ہے

محبت ہے لباسِ پارسائی

مناظر شہر کے دیکھے جو اپنے

غموں سے مل گئی مجھ کو رہائی

بتا کس کے لیے زندہ رہوں اب؟

میسر جب نہیں تیری رسائی

ڈرو محسن خطاکاری کے شر سے

نہ کر دے قہر اب برپا خدائی


محسن کشمیری

No comments:

Post a Comment