Wednesday, 24 March 2021

رات کے سونے ماتھے پر دیپ کا جھومر چمکے گا

 رات کے سُونے ماتھے پر

دِیپ کا جُھومر چمکے گا

آنکھ کی کالی رَینا پر

خواب کا سُورج اُبھرے گا

صبح تو اک دن آئے گی

روشنی ہر سُو چھائے گی


یہ چمن اک دن مہکے گا

چار سُو پِھر پھول کِھلیں گے

اور خوشبو کے موسم بھی

ان رُتوں سے آن ملیں گے

شاخ پر پنچھی چہکیں گے

رنگ پھولُوں میں لہکیں گے


جب کوئی تارا چمکے گا

جب افق پر ہلچل ہو گی

صبح پھر سُورج کے مانند

آسماں سے نازل ہو گی

کَل کرے گی آج کرے گی

رات کب تک راج کرے گی


بیچتے ہو تم لاشوں کو

ظُلم کی پُوجا کرتے ہو

پیٹ کی خاطِر جیتے ہو

پیٹ کی خاطِر مرتے ہو

خون سے دامن دھوتے ہو

چین سے کیسے سوتے ہو


یہ سیاہی چھٹنے کو ہے

ظلمتوں کے داعی سن لیں

چور بھی سارے یہ سن لیں

اور ان کے بھائی سن لیں

جبر کی قوت نامنظور

جھوٹ کی طاقت نامنظور


آزر جمال

No comments:

Post a Comment