Wednesday, 24 March 2021

محبت کم نہیں ہوتی

 محبت کم نہیں ہوتی


محبت بس محبت ہے

قیامت ہے تو آئے پھر

میں ہاروں گا میں واروں گا

اسے کوئی تو بھائے پھر

بچھڑنا ہے اسے اک دن

تڑپنا ہے تمہیں اک دن

سکوت میں رہے گا وہ

بھٹکنا ہے تمہیں اک دن

اگر یہ جان کے بھی پھر 

اسی میدان میں گھومو گے

تو پھر اک بات بولوں میں

تمہیں سود و زیاں کا غم

کوئی زنجش کہیں پیہم

اسے کھونے کا بس اک غم

نہیں ہے، کیوں نہیں آخر؟


جواب

سنو اے ناصح سن لو

محبت ایک خواہش ہے

محبت خوشنما مرہم

محبت انتہا غم کی

محبت آزمائش ہے

محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دُور ہوتے ہیں

بِنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چُور ہوتے ہیں

نئے بندھن میں بندھنے سے

نئے سپنے سجانے سے

نئی دنیا بسانے سے

محبت کم نہیں ہوتی

محبت دائمی سچ ہے

محبت کم نہیں ہوتی


عقیل فاروق

No comments:

Post a Comment