محبت کم نہیں ہوتی
محبت بس محبت ہے
قیامت ہے تو آئے پھر
میں ہاروں گا میں واروں گا
اسے کوئی تو بھائے پھر
بچھڑنا ہے اسے اک دن
تڑپنا ہے تمہیں اک دن
سکوت میں رہے گا وہ
بھٹکنا ہے تمہیں اک دن
اگر یہ جان کے بھی پھر
اسی میدان میں گھومو گے
تو پھر اک بات بولوں میں
تمہیں سود و زیاں کا غم
کوئی زنجش کہیں پیہم
اسے کھونے کا بس اک غم
نہیں ہے، کیوں نہیں آخر؟
جواب
سنو اے ناصح سن لو
محبت ایک خواہش ہے
محبت خوشنما مرہم
محبت انتہا غم کی
محبت آزمائش ہے
محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دُور ہوتے ہیں
بِنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چُور ہوتے ہیں
نئے بندھن میں بندھنے سے
نئے سپنے سجانے سے
نئی دنیا بسانے سے
محبت کم نہیں ہوتی
محبت دائمی سچ ہے
محبت کم نہیں ہوتی
عقیل فاروق
No comments:
Post a Comment