Wednesday, 24 March 2021

درد سے دوستی پرانی ہے

 درد سے دوستی پرانی ہے

صبر کے سنگ پاسبانی ہے

کھول دو درد کا دریچہ اب

آخری زخم میں روانی ہے

ٹانک دو زخم کے سبھی موسم

بے کسی کی یہی جوانی ہے

ہم نفس خواب رہ گیا کتنا

آخری دم میں زندگانی ہے

کوئی منزل کہاں پتہ کوئی

اس سفر کی کوئی نشانی ہے


یونس ڈار

No comments:

Post a Comment