Wednesday, 10 March 2021

جو ڈبو دیں وہ سمندر ہی بھلے

 جو ڈبو دیں وہ سمندر ہی بھلے

فیلسوفوں سے قلندر ہی بھلے

گر ہٹاؤ تو الجھتے بھی نہیں

تم سے تو راہ کے پتھر ہی بھلے

جب تباہی پہ تُلے خود بھی مِٹے

داستانوں کے ستمگر ہی بھلے

کوئی مِٹنے پہ نہیں آمادہ

کیوں نہ ہو حرفِ مکرر ہی بھلے

جو صداقت نہ کسی کام آئے

اس سے تو جھوٹ کے دفتر ہی بھلے

کچھ بھی ہو درد کا درماں تو ہوا

تیری گفتار سے نشتر ہی بھلے

آپ ہی شوق سے بنیے شاہین

ہم تو بس کھال کے اندر ہی بھلے


اسرار ناروی

ابن صفی

No comments:

Post a Comment