Wednesday, 10 March 2021

دل زدہ اٹھ کے ادھر کو جو کوئی دم ہو جائیں

 دل زدہ اٹھ کے ادھر کو جو کوئی دم ہو جائیں

محفلیں عیش کی ساری صفِ ماتم ہو جائیں

قعرِ دریا میں رکھا کیا ہے ابھی کیا دیکھیں

سطح دریا! یہ تِرے نقش تو محکم ہو جائیں

ہم سے مایوس نہ ہو بُجھتی ہوئی شامِ شفق

خون ہے دل میں بہت رنگ اگر کم ہو جائیں

کل نہ روئے گی کوئی شاخِ عزادار انہیں

ان شگوفوں سے کہو، شاملِ ماتم ہو جائیں


ڈاکٹر توصیف تبسم

No comments:

Post a Comment