دل زدہ اٹھ کے ادھر کو جو کوئی دم ہو جائیں
محفلیں عیش کی ساری صفِ ماتم ہو جائیں
قعرِ دریا میں رکھا کیا ہے ابھی کیا دیکھیں
سطح دریا! یہ تِرے نقش تو محکم ہو جائیں
ہم سے مایوس نہ ہو بُجھتی ہوئی شامِ شفق
خون ہے دل میں بہت رنگ اگر کم ہو جائیں
کل نہ روئے گی کوئی شاخِ عزادار انہیں
ان شگوفوں سے کہو، شاملِ ماتم ہو جائیں
ڈاکٹر توصیف تبسم
No comments:
Post a Comment