Wednesday, 10 March 2021

دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا

 دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا

انجمن انجمن رہا تنہا

ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے

کوئی گزرا ہے بارہا تنہا

تیری آہٹ قدم قدم اور میں

اس معیت میں بھی رہا تنہا

کہنا یادوں کے برفزاروں سے

ایک آنسو بہا بہا تنہا

ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل

اک کھنڈر سا رہا سہا تنہا

گونجتا رہ گیا خلاؤں میں

وقت کا ایک قہقہہ تنہا


مجید امجد

No comments:

Post a Comment