میرے پیار کا قصّہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند
تُو کس دھن میں غلطاں پیچاں کس نشے میں چُور ہے چاند
تیری خندہ پیشانی میں کب تک فرق نہ آئے گا
تُو صدیوں سے اہلِ زمیں کی خدمت پر مامور ہے چاند
اہلِ نظر ہنس ہنس کر تجھ کو ماہِ کامل کہتے ہیں
تیرے دل کا داغ تجھی پر طنز ہے اور بھرپور ہے چاند
تیرے رُخ پر زردی چھائی میں اب تک مایوس نہیں
تیری منزل پاس آ پہنچی میری منزل دور ہے چاند
کوئی نہیں ہمرازِ تمنّا کوئی نہیں دم سازِ سفر
راہِ وفا میں تنہا تنہا چلنے پر مجبور ہے چاند
تیری تابش سے روشن ہیں گُل بھی اور ویرانے بھی
کیا تُو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند
شبنم رومانی
No comments:
Post a Comment