Wednesday, 10 March 2021

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے

 تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے

پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے

پیغام ملا تھا جو حسین ابنِ علی کو

خوش ہوں وہی پیغامِ قضا میرے لیے ہے

یہ حورِ بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا

لبیک کہ مقتل کا صِلا میرے لیے ہے

کیوں جان نہ دوں غم میں تِرے جب کہ ابھی سے

ماتم یہ زمانے میں بپا میرے لیے ہے

میں کھو کے تِری راہ میں سب دولتِ دنیا

سمجھا کہ کچھ اس سے بھی سوا میرے لیے ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

سرخی میں نہیں دستِ حنا بستہ بھی کچھ کم

پر شوخئ خونِ شہداء میرے لیے ہے

راحل ہوں مسلمان بصد نعرۂ تکبیر

یہ قافلہ یہ بانگِ درا میرے لیے ہے

انعام کا عقبٰی کے تو کیا پوچھنا لیکن

دنیا میں بھی ایماں کا صِلا میرے لیے ہے

کیوں ایسے نبی پر نہ فدا ہوں کہ جو فرمائے

اچھے تو سبھی کے ہیں برا میرے لیے ہے

اے شافعِ محشر جو کرے تو نہ شفاعت

پھر کون وہاں تیرے سوا میرے لیے ہے

اللہ ہی کے رستے میں موت آئے مسیحا

اکسیر یہی ایک دوا میرے لیے ہے

کیا ڈر جو ہو ساری خدائی بھی مخالف

کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے

جو صحبتِ اغیار میں ہو اس درجہ بیباک

اس شوخ کی سب شرم و حیا میرے لیے ہے

ہے ظلم بہت عام تِرا پھر بھی ستمگر

مخصوص یہ اندازِ جفا میرے لیے ہے


مولانا محمد علی جوہر

No comments:

Post a Comment