Wednesday, 10 March 2021

ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس

 ریشم بُننا کھیل نہیں


ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس

دل کے لہو سے سانس ملا کے سچا نور بناتے ہیں

اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں

خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں

صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں بُنتے ہیں

کس نے سمجھا کیسے بُنے ہیں چاندی کی کرنوں کے تار

کُنجِ جگر سے کھینچ کے لاتے ہیں ہم نُور کے ذروں کو

شرماتے ہیں دیکھ کے جن کو نیل گگن کے تارے بھی

ہم کو خبر ہے ان کاموں جاں کا زیاں ہو جاتا ہے

لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی

سُچا ریشم بُنتے ہیں اور تا لپٹتے جاتے ہیں

آخر گُھٹ کے مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں

کوئی ریشم بُن کے دیکھے ریشم بُننا کھیل نہیں


علی اکبر ناطق

No comments:

Post a Comment