Tuesday, 20 April 2021

جو بن سنور کے وہ اک ماہ رو نکلتا ہے

 جو بن سنور کے وہ اک ماہ رُو نکلتا ہے

تو ہر زبان سے بس اللہ ہُو نکلتا ہے

حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو

پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے

زمین اور مقدر کی ایک ہے فطرت

کہ جو بھی بویا وہی ہو بہو نکلتا ہے

یہ چاند رات ہی دیدار کا وسیلہ ہے

بروز عید ہی وہ خوبرو نکلتا ہے

تِرے بغیر گُلستاں کو کیا ہوا عادل

جو گُل نکلتا ہے بے رنگ و بُو نکلتا ہے


عادل رشید

No comments:

Post a Comment