Tuesday, 20 April 2021

گھٹی صدا کو کبھی مصلحت رہائی دے

 گھُٹی صدا کو کبھی مصلحت رہائی دے

میں چاہتا ہوں مِری چیخ بھی سنائی دے

نظر ہٹے کبھی خود سے تو کچھ نظر آئے 

خدا کرے تجھے کچھ اور بھی دکھائی دے

اسی کے ہاتھوں سے اُترے گی نتھ سیاست کی

جو رونمائی سے پہلے ہی منہ دکھائی دے

لکھوں تو متن مِرا سُرخیوں سے بھر جائے 

رگِ قلم کے لیے ایسی روشنائی دے

بھٹک گیا ہوں میں دنیا تلاش کرتے ہوئے 

خدایا مجھ کو کبھی خود سے آشنائی دے

اس اجنبی سے کنکشن بحال کرنا ہے 

اسے کہو وہ تعلق کی وائی فائی دے

اس عمر میں مجھے دلشاد چاہئے عزت

میں چاہتا نہیں بیٹا مجھے کمائی دے


دلشاد نظمی

No comments:

Post a Comment