گیت
مہندی سے لکھ دو ری
ہاتھوں پہ سکھیو
میرے سانوریا کا نام
کتنا سہانا سمے ہے ملن کا
مجھ کو سنورنے سے کام
بالوں میں گوندھو ری بیلے کی کلیاں
مجھ کو بلاتی ہیں ساجن کی گلیاں
آنچل سنہری، بھری مانگ میری
آئی بدائی کی شام
مہندی سے لکھ دو ری
ہاتھوں پہ سکھیو
میرے سانوریا کا نام
ساون کی پہلی جھڑی جب لگے گی
یادوں سے میکے میں ہلچل مچے گی
آئے گا ایسے میں خط میرے گھر سے
سکھیوں سے لے کے سلام
مہندی سے لکھ دو ری
ہاتھوں پہ سکھیو
میرے سانوریا کا نام
پنکھا جھلوں تو کنگنوا کھنکے
کنگنوا کھڑکے تو منوا دھڑکے
دیکھو لگن میرا ٹوٹے نہ سکھیو
کیسے میں لوں ان کا نام
مہندی سے لکھ دو ری
ہاتھوں پہ سکھیو
میرے سانوریا کا نام
نگار صہبائی
No comments:
Post a Comment