Thursday, 15 April 2021

مہندی سے لکھ دو ری ہاتھوں پہ سکھیو میرے سانوریا کا نام

گیت


مہندی سے لکھ دو ری

ہاتھوں پہ سکھیو

میرے سانوریا کا نام

کتنا سہانا سمے ہے ملن کا

مجھ کو سنورنے سے کام


بالوں میں گوندھو ری بیلے کی کلیاں

مجھ کو بلاتی ہیں ساجن کی گلیاں

آنچل سنہری، بھری مانگ میری

آئی بدائی کی شام

مہندی سے لکھ دو ری

ہاتھوں پہ سکھیو

میرے سانوریا کا نام


ساون کی پہلی جھڑی جب لگے گی

یادوں سے میکے میں ہلچل مچے گی

آئے گا ایسے میں خط میرے گھر سے

سکھیوں سے لے کے سلام

مہندی سے لکھ دو ری

ہاتھوں پہ سکھیو

میرے سانوریا کا نام


پنکھا جھلوں تو کنگنوا کھنکے

کنگنوا کھڑکے تو منوا دھڑکے

دیکھو لگن میرا ٹوٹے نہ سکھیو

کیسے میں لوں ان کا نام

مہندی سے لکھ دو ری

ہاتھوں پہ سکھیو

میرے سانوریا کا نام


نگار صہبائی

No comments:

Post a Comment