Friday, 2 June 2023

یار تو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا

 یار تُو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا

ایک اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا

اپنے پُرکھوں کی کوئی نشانی تو رکھ

کچھ بنانا نہیں صرف گوڑے گا کیا

جب لچکدار تھی تُو نے موڑا نہیں

اب بڑھاپے میں لاٹھی کو توڑے گا کیا

اچھے اچھوں کی سانسیں اُکھڑ جاتی ہیں

موت کا کوئی پنجہ مروڑے گا کیا

وہ ہیں مزدور، ہمت کی حد ہوتی ہے

ان کا سارا لہو تُو نچوڑے گا کیا

چاہے زاہد! زمانہ یہ منہ موڑ لے

اہنے بندے کا وہ ساتھ چھوڑے گا کیا


تجمل حسین زاہد

No comments:

Post a Comment