دل ہے گستاخ، دل ربا گستاخ
ایک سے ایک ہے سوا گستاخ
پوچھتی ہیں وہ مجھ سے صبحِ وصال
اب کہو دل کا مدعا گستاخ
بول اٹھے رند دیکھ کر پسِ غم
شیخ ہے یا ریاض یا گستاخ
اب تو ساقی بھی ہو گیا تائب
نہ رہا کوئی آسرا گستاخ
ان کی صحبت میں اب وہ لطف نہیں
ہو گئے جب سے پارسا گستاخ
گستاخ رامپوری
No comments:
Post a Comment