Friday, 2 June 2023

آستیں کو نہ کھولیے ہوں گے

 آستیں کو نہ کھولیے ہوں گے

اس میں لازم سنپولیے ہوں گے

اپنی جانب پلٹنے والوں نے

پاؤں سے ہاتھ دھو لیے ہوں گے

میں جنہیں ملنے کو ترستا ہوں

وہ مجھے کب کا رو لیے ہوں گے

اپنے بارے میں غیر کچھ بھی کہیں

آپ تو یہ نہ بولیے؛ ہوں گے

جس طرح جھوٹ بولتا ہے تُو

سب تیرے ساتھ ہو لیے ہوں گے


احمد جہانگیر داجلی

No comments:

Post a Comment