آستیں کو نہ کھولیے ہوں گے
اس میں لازم سنپولیے ہوں گے
اپنی جانب پلٹنے والوں نے
پاؤں سے ہاتھ دھو لیے ہوں گے
میں جنہیں ملنے کو ترستا ہوں
وہ مجھے کب کا رو لیے ہوں گے
اپنے بارے میں غیر کچھ بھی کہیں
آپ تو یہ نہ بولیے؛ ہوں گے
جس طرح جھوٹ بولتا ہے تُو
سب تیرے ساتھ ہو لیے ہوں گے
احمد جہانگیر داجلی
No comments:
Post a Comment